میری دنیا کی ایک جھلک
یہاں آپ کا خیرمقدم ہے میری تجربوں، خیالوں، خواہشوں اور احساسات کی دنیا میں — ایک ایسی جگہ جہاں آپ اپنا عکس ڈھونڈ سکتے ہیں۔
چاہے آپ کی زندگی کسی بھی جغرافیائی، سماجی، خاندانی یا معاشی حالات میں جلتی بجھتی ہو۔
چاہے آپ کی عمر، رنگ، نسل یا تعلیم کچھ بھی ہو جو آپ کی شناخت بنے۔
کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ آپ بھی زندگی میں کئی راہوں سے گزرتے ہیں۔
کبھی ٹھہر کر کچھ باتوں کو سمجھنا چاہتے ہیں مگر اکثر ہار جاتے ہیں۔
کبھی اچھے حالات میں سنورتے رہنا چاہتے ہیں اور برے تجربات سے بکھر جاتے ہیں۔
راستوں کے کچھ موڑ پر خواہش ہوتی ہے کہ کوئی مجھے سمجھے یا سمجھائے؛
زندگی کی اس دوپہر کی چٹکی دھوپ میں کوئی سایہ مل جائے۔
جہاں دو پل سکون کے گزار کر ایک نئے جوش اور طاقت کے ساتھ واپس سفر پر چل پڑوں — اپنی منزل کی طرف۔
کبھی کچھ لوگ ملتے ہیں جن سے پہلی ملاقات میں لگتا ہے جیسے برسوں سے جانتے ہیں،
اور کبھی سالوں تک لوگوں کے درمیان رہ کر بھی اجنبی رہ جاتے ہیں۔
کچھ لوگ زندگی کے ہر کونے کو روشن کر دیتے ہیں۔
پھر وہی ہمیں اندھیرے کے اس موڑ پر چھوڑ جاتے ہیں جیسے ہمارا وجود اپنے ساتھ لے گئے ہوں۔
اکثر وہی لوگ دل کا درد بن جاتے ہیں جو دلوں میں گھر بناتے ہیں۔
کبھی سوچتے ہیں کہ وہ کر نہیں سکتے اور کبھی کچھ ایسا کر جاتے ہیں جو سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کون ہے جو کچھ کچھ مجھ جیسا محسوس ہوتا ہے؟
میں ہوں پروین شریف۔
ایموشنل انٹیلی جنس لائف کوچ
“زندگی صرف گزارنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے جذبات کو سمجھ کر انہیں ایک صحیح سمت دینے کا نام ہے۔ بطور کوچ، میں آپ کو وہ طریقے سکھاتی ہوں جس سے آپ اپنے ڈر اور بے چینی کو اپنی طاقت بنا سکیں۔ میرا مقصد آپ کو اس ذہنی سکون تک پہنچانا ہے جہاں آپ پورے اعتماد کے ساتھ فیصلے لے سکیں۔”
مینٹرشپ: حکمت اور کردار کی تعمیر
“میرا مینٹرشپ پروگرام ان لڑکیوں کے لیے ہے جو صرف کتابی علم نہیں بلکہ ‘حکمت’ کی تلاش میں ہیں۔ پچھلے 6 برسوں سے میں طالبات کی شخصیت کو سنوارنے اور انہیں ایک باوقار خاتون بنانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ یہ ایک با مقصد زندگی گزارنے کا راستہ ہے۔”
مصنفہ: ایک سفر خود اپنی تلاش کا
“بطور مصنفہ، میں نے اپنی کتاب ان ان کہے خیالوں کے نام کی ہے جنہیں ہم اکثر خود کو بتانا بھول جاتے ہیں۔ یہ کتاب ایک آئینہ ہے جو آپ کی اصلیت کو آپ سے ملواتا ہے۔”
کالم نگار: تیرہ سالہ بصیرت
“پچھلے 13 برسوں سے میرے کالم سماجی مسائل اور انسانی نفسیات کے درمیان ایک پل کا کام کر رہے ہیں۔ مشاہدے اور تحریر کا یہ تیرہ سالہ سفر ہی میرے اس پلیٹ فارم کی دھڑکن ہے۔”
میرا کام میرا مقصد ہے، لیکن میرا مزاج زندگی کی ان چھوٹی خوشیوں سے عبارت ہے جو روح کو سکون دیتی ہیں۔ ایک مصنفہ اور مینٹر ہونے سے الگ، میں ایک ایسی انسان ہوں جو سادگی میں گہرائی اور خاموشی میں گفتگو تلاش کرتی ہے۔ آئیے، آپ کو اپنے ان احساسات اور پسند سے ملواؤں جو ‘مائی ریفلیکٹیو پین’ کی اصل روح ہیں۔
مجھے سادگی میں ہی اصل خوبصورتی نظر آتی ہے۔ دنیا کے شور و غل سے دور، میں خاموشی کے ان لمحوں کی قدر کرتی ہوں جہاں روح کو سکون ملتا ہے اور دل کی بات صاف سنائی دیتی ہے۔
لفظوں کی دنیا میں کھو جانا اور چائے کی خوشبو کے ساتھ خیالوں کو پٹیوں پر اتارنا میری روح کی غذا ہے۔
میں ہر لمحے کو گہرائی سے محسوس کرتی ہوں۔
چھوٹی چھوٹی اچھی باتیں، لوگ اور تجربات میرے پورے وجود کو خوش کر دیتے ہیں —
اگر وہ مکمل اور سچائی سے بھرپور ہوں۔ میرے لیے رشتوں کی بنیاد سچائی اور ہمدردی پر ٹیکی ہے۔ میں ان گفتگو کی قدر کرتی ہوں جو دکھاوے سے پاک ہوں اور جہاں ایک انسان دوسرے انسان کے درد کو بنا کہے سمجھ سکے۔
اور اس کا الٹ بھی مجھے بہت دکھ دیتا ہے۔
بچپن سے برے تجربات کی وجہ سے دل میں لاتعداد سوال اٹھتے رہے ہیں:
لوگ دھوکہ کیوں دیتے ہیں؟
دوسروں کے احساسات کی پرواہ کیوں نہیں کرتے؟
دلوں کو کیوں تکلیف دیتے ہیں؟
یہ ان گنت “کیوں” دل میں طوفان مچاتے ہیں مگر کوئی جواب نہیں ملتا جو ان طوفانوں کو تھام سکے۔
جب میرے ساتھ یا کسی کے ساتھ غلط ہوتا ہے تو برا اس بات کا نہیں لگتا کہ میرے ساتھ ہوا۔
اصل تکلیف اس بات کی ہوتی ہے کہ کوئی ایسا کیسے کر سکتا ہے؟
اور اگر حالات نے بھی ایسا کر دیا تو اسے احساس کیوں نہیں ہوتا کہ اس کی غلطی سے کوئی ٹوٹ چکا ہے؟
کیا اب وقت نہیں کہ اس کے ان ٹوٹے ٹکڑوں کو سنوارا جائے؟
کیا ضمیر، اخلاق، وقار جیسے عناصر کو ایک طرف رکھ کر انسان واقعی ترقی کر سکتا ہے؟
کیا ترقی صرف مادی چیزوں کا نام ہے؟
بچپن سے تھوڑا بہت لکھتی آئی ہوں۔
مگر یہ میرے اندر جنون، خوشی اور شوق تب بنا جب شدت سے احساس ہوا کہ
دنیا کی برائیاں صرف اور صرف علم سے دور ہو سکتی ہیں۔
علم جو محبت کرنا سکھاتا ہے؛
علم جو دوسروں کو سمجھنا سکھاتا ہے؛
علم جو اپنی غلطیوں اور برائیوں کو سمجھ کر بہتر بننا سکھاتا ہے؛
علم جو ہمیں سچے انسان بناتا ہے۔
تو میں نے اپنے بہت سے “کیوں” کا جواب علم سے پایا۔
ہر محسوس ہونے والے لمحے اور تجربے کو علم سے سمجھا،
قلم سے کاغذ پر اتارا،
اور خواہش ہوئی کہ کیوں نہ ایک احساسِ ذمہ داری کے ساتھ
اس قلم سے جو دل میں آواز اٹھتی ہے اسے لوگوں کے ساتھ شیئر کروں —
کیونکہ میرا یقین ہے:
تلوار چلانے کی مہارت، تجربہ اور صحیح وار برے انسان کو ختم کرتی ہے،
مگر قلم کی مہارت اور صحیح وار برائیوں کو ختم کرتی ہے،
دلوں کو سکون دیتی ہے۔
اگر آپ خود کو سنوارنا چاہتے ہیں،
کچھ سنبھلنا چاہتے ہیں،
آس پاس کو تھوڑا سمجھنا چاہتے ہیں —
تو کیا آپ میرے ان تجربوں کی سیر میں میرے ساتھ چند پل چلنا پسند کریں گے؟
چلیں گے نا!!
تو سبسکرائب کرنے میں دیر نہ کیجیے گا!!
(LAUNCH)سورت میں میری کتاب کی رونمائی

اس 13 سالہ مسلسل سفر کا سب سے حسین پڑاؤ سورت کے خوبصورت شہر میں میری کتاب ‘ایک سفر خود اپنی تلاش کا’ کا آغاز تھا۔ میرے لیے وہ پل نہایت ہی عاجزی اور شکر گزاری کا تھا جب میری برسوں کی محنت کو ملک کی عظیم شخصیات اور دور اندیش لیڈروں کے سامنے پیش کیا گیا۔ ان کی حوصلہ افزائی اور اس شام کی گرمجوشی نے میرے اس یقین کو اور مضبوط کر دیا کہ دنیا کو آج روحانی سکون اور شفا کی سخت ضرورت ہے، اور خود کو پانے کا سفر ہی وہ سب سے اہم راستہ ہے جس پر ہمیں چلنا چاہیے۔
